MERA MIANWALI JUNE 2018

منورعلی ملک کے جون 2018 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی

سلام یاعلی —— قتل کرکے جسے’ انعام لیا تھا تونے ابن ملجم ترا مقتول ابھی زندہ ھے

بشکریہ-منورعلی ملک-5 جون 2018

سلام یا علی —– ھر نقش قدم لافانی ھے ، تاریخ گواھی دیتی ھے خیبرمیں علی ، خندق میں علی ، منبر پہ علی’ بستر پہ علی

بشکریہ-منورعلی ملک- 6 جون 2018

میرا میانوالی/ میرا داؤدخیل ——————–

دوچار ایسے لوگ ھرمعاشرے میں ھوتے ھیں – ھمارے ھاں انہیں “ ھلا اویا “ ( تھوڑا سا پاگل ) کہتے ھیں – یہ لوگ معاشرے کا حسن ھوتے ھیں – خود بھی ھر حال میں خوش رھتے ھیں ، اپنی دلچسپ حرکتوں اور باتوں سے دوسروں کو بھی خوش رکھتے ھیں – غلام حسین خان ولد رنگی خان شکورخیل داؤدخیل کا ایک ایسا ھی کردار ھیں – اب ان کی عمر اسی سال سے زائد ھو چکی ھے ، بیمار رھتے ھیں – اللہ سلامت رکھے، یہ شخص جوانی میں داؤدخیل کی رونق ھؤا کرتا تھا- پچھلے سال بھی ان کے بارے میں ایک دو پوسٹس لکھی تھیں – غلام حسین خان خود تو پڑھ لکھ نہیں سکتے – کبھی سکول میں داخلہ ھی نہ لیا – اس لیے اس نرالے انسان کے بارے میں لکھنا ھم پہ واجب ھو گیا کہ ھمارے ، بلکہ سارے شہر کے بہت پیارے دوست رھے – غلام حسین خان نے زندگی میں کوئی کاروبار نہ کیا – تھوڑی بہت آبائی زمین ان کی گذر اوقات کا ذریعہ تھی ، وہ بھی کاشت ان کے بھائی کرتے تھے- غلام حسین نے کبھی ادھر جھانک کر بھی نہ دیکھا-

رمضان المبارک کے مہینے میں غلام حسین خان اچانک حرکت میں آجاتے – پورا مہینہ روزے کے ساتھ سارا دن کچی اینٹیں بنانے میں صرف کرتے- اس کمائی سے غلام حسین خان مارکیٹ میں سب سے مہنگے کپڑے کا جوڑا بنواتے- سب سے اعلی ڈیزائن کی فرمے والی کھیڑی خریدتے – سر پہ قیمتی سفید ململ کی کلف لگی پگڑی سجا تے – کیا شان ھوتی تھی اس جوان کی , جدھر سے گذرتا ، لوگ رک رک کر دیکھتے – یوں غلام حسین خان داؤدخٰیل کی عید کا حسن ھؤا کرتے تھے-————– رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک-9 جون 2018

میرا میانوالی / میرا داؤدخیل ————————— غلام حسین خان المعروف غلام حسین رنگی آلا کا ذکر چل رھا تھا – غلام حسین خان بہت سادہ اور معصوم انسان ھیں -80 سال سے اپنی مرضی کی زندگی گذار رھے ھیں ، اپنی مرضی کے خلاف کسی کی بات نہیں سنتے- تعلیم یافتہ نہ ھونے کے باوجود کرکٹ کے میچ بڑے شوق سے دیکھتے بھی ھیں ، کمنٹری سمجھ بھی لیتے ھیں – کوئی چھیڑے تو بہت کرارا جواب دیتے ھیں – اس لیے لوگ جان بوجھ کر انہیں چھیڑتے اور لطف اٹھاتے ھیں – غلام حسین خان مصباح الحق کے دیوانے ھیں – اس کے خلاف ذرا سی بات بھی نہیں سن سکتے- ایک دفعہ میچ دیکھتے ھوئے ایک لڑکے نے غلام حسین خان کو چھیڑنے کے لیے کہا ” آج مصباح کچھ اچھا نہیں کھیل رھا ” غلام حسین خان نے دانت پیستے ھوئے کہا ” ھاں , اس کی جگہ تیری اماں ٹیم کی کپتان ھوتی تو بہت کمال کا کھیلتی” چھیڑنے والے کو پتہ تھا کہ ایسا ھی جواب ملے گا – اس لیے دوسرے لوگوں کے ساتھ وہ بھی ھنس ھنس کر دوھرا ھورھا تھا – پچھلے سال غلام حسین خان کے بارے میں میں نے پوسٹ لکھی تو میرے بیٹے رضوان علی ملک نے انہیں وہ پوسٹ پڑھ کر سنائی – غلام حسین خان بہت بیمارتھے – ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، کہنے لگے ”اللہ منور کو خوش رکھے ، میرا بھائی جو ھے ، میرے بارے میں اور کون لکھے گا ”——- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 10 جون 2018

شاعر تو میں جیسا بھی ھوں ، نعت کے معاملے میں رب کریم کا مجھ پہ خصوصی کرم ھے- ایک نعت میں میں نے کہا تھا ——- کسی کو ندامت پہ بخشا گیا ھے ، کسی کو گرا کر اٹھایا گیا ھے مجھے نعت کہنے کی توفیق دے کر کرم کا وسیلہ بنا یا گیا ھے

بشکریہ-منورعلی ملک- 11 جون 2018

عید کا چاند ———- اپنا شعر

کیا خبر کب یہاں پہنچتا ھے چاند نکلا ھؤا تو ھے گھر سے

بشکریہ-منورعلی ملک- 14جون 2018

چاند نکلنے سے ذرا پہلے رمضان المبارک کے آخری لمحات-شکریہ-منورعلی ملک- 16  جون 2018

اپنا پرانا شعر ——————– آج کے بعد تو بے شک مجھے پھر یاد نہ کر روٹھنے والے مری عید تو برباد نہ کر

بشکریہ-منورعلی ملک- 17 جون 2018

یادیں ———————– 2015 میانوالی کے بزرگ شاعر ساتھی مختیار ثناء کے ساتھ –

بشکریہ-منورعلی ملک- 18 جون 2018

اج کی پکچر —————

عید پر بھی یہ سادگی نہ گئی-بشکریہ-منورعلی ملک- 18 جون 2018

بسم اللہ الرحمن الرحیم ———— اللہ اللہ ، کیا سماں تھا 21 جون کی رات ——– !!!!چکاچوند روشنیوں سے آراستہ پنڈال – سلیقے سے لگی ھوئی کھانے کی میزیں ، پنڈال کے شمالی سرے پر سجاسجایا سٹیج ، منظر سارا ولیمے کا ، بات کچھ اور تھی –

یہ تقریب میانوالی کے جواں سال ڈینٹل سرجن ، ڈاکٹر حنیف نیازی کے ڈینٹل کلینک DENTAL ZONE کی افتتاحی تقریب تھی- افتتاح کا اعزازمجھے نصیب ھؤا – سٹیج پر میرے دائیں بائیں گورنمنٹ کالج میانوالی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ , پروفیسر سید اعجاز محمود شاہ ، الصفہ کالج کے پرنسپل پروفیسر عبدالوحید قریشی ، گورنمنٹ کالج میانوالی کے فزکس کے پروفیسرحیات اللہ ملک ، برٹش کونسل کے ماسٹر ٹرینرمحمدفیاض اور پی اے ایف کالج میانوالی کے انگلش کے پروفیسرامجدعلی ملک جلوہ گر تھے – تقریب کے سٹیج سیکریٹری میانوالی کے ادبی حلقوں کی محبوب شخصیت، جواں سال شاعر پروفیسر شاکر خان تھے –

سٹیج پر بیٹھے ھوئے سب معزز مہمانوں نے اپنے اپنے انداز میں ڈاکٹر حنیف نیازی کو خراج تہنیت (مبارک باد) پیش کیا – میں نے ڈاکٹر حنیف نیازی کی کامیابیوں اور بے حساب مقبولیت کا ذکر کرتے ھوئے کہا ان تمام تر خوش نصیبیوں کی اصل وجہ یہ ھے کہ ڈاکٹر حنیف کا قبلہ درست ھے- جب کوئی ان کی کسی خوبی کی تعریف کرے تو یہ کہتے ھیں ”جی ، یہ اللہ کا فضل ، میرے والدین کی دعاؤں ، میرے ٹیچرز کی شفقتوں اور میرے دوستوں کی محبتوں کا ثمر ھے، اس میرا کمال تو کچھ بھی نہیں ” –

تقریب کے میزبان ( ڈاکٹرحنیف) کو تقریب کے دوران میں نے ایک منٹ کے لیے بھی بیٹھا نہیں دیکھا – وہ مسلسل مہمانوں کے استقبال اور تقریب کے انتظامات میں مصروف رھے – ایک بار سٹیج کے سامنے سے بھاگتے ھوئے گذرے تو میں نے اشارے سے بلا کر کہا ”اللہ کے بندے ، ھمارے ساتھ ایک پکچر تو بنوالو ” – سادگی اور انکسار کی اس سے خوبصورت مثال اور کیا ھو سکتی ھے –

اس تقریب کی ایک اھم خوبی یہ تھی کہ صاف ستھرے ، ھنستے مسکراتے لوگوں کا اتنا بڑا اجتماع بہت کم دیکھنے میں آتا ھے – ھر بندہ اپنی جگہ باکمال اور محبت کے لائق تھا – ایک فارسی شاعر نے کہا تھا ———————————- لذیذ بود حکایت ، دراز تر گفتم ( قصہ مزیدار تھا ، اس لیے لمبا لکھ دیا )

جو قصہ میں بیان کررھاھوں, یہ قصہ بھی خاصا دلچسپ ھے، اس لیے اس کی اگلی قسط کا انتظار کیجیے ، جو میں آج تقریبا تین چار بجے لکھوں گا ، انشآءاللہ -بشکریہ-منورعلی ملک- 23 جون 2018

افتتاح ——————–

تعارفی تقریب کے بعد عالیشان کلینک کا افتتاح ھؤا – ھم نے تو سمجھا تھا دو کمروں کا کلینک ھوگا ، مگر یہاں تو متعدد کمروں پر مشتمل شاندار عمارت دیکھ کر بے ساختہ الحمدللہ زبان پر آگیا – استقبالیہ، مردحضرات کا ویٹنگ لاؤنج، پیچھے ایک گیلری اس کے دائیں جانب خواتین کا ویٹنگ روم ، بائیں جانب جدید ترین آلات سے مزین سرجری ( آپریشن تھیئٹر) مزا آگیا ، یہ سب کچھ دیکھ کر- یوں لگا جیسے لاھور یا اسلام آباد کے کسی جدید ترین ڈینٹل کلینک میں آگئے – سرجری میں ڈاکٹر حنیف نے مختلف تنصیبات کے استعمال پر ایک مختصر سا لیکچر دے کر ھمیں اور بھی حیران کر دیا – وھاں سے نکلے تو میانوالی کے اولیں ویب چینل کے ڈائریکٹر عمران حفیظ نے کلینک کے بارے میں میرے تاثرات ریکارڈ کیے-

پنڈال میں واپس آئے تو بہت عمدہ کھانا آگیا – وھاں جو حلوہ تھا اس کے بارے میں کسی وقت ڈاکٹر حنیف سے پوچھوں گا کہ کہاں سے بنوایا تھا- کھانا شروع ھونے سے پہلے سیلفیاں بنانے کا طویل سلسلہ کافی دیر برپا رھا – بہت سے دیرینہ عزیزوں اور مہربانوں کے ساتھ پکچرز بنائی گئیں – سب کے نام یاد نہیں آرھے، ان میں میرے جگرحاجی اکرام للہ خان نیازی، عصمت گل خٹک ، عمران حفیظ ، مجیب اللہ خان نیازی ، قمر بھروں زادہ ، مہربان اباخیل، وقار احمد ملک اورآفتاب خان احمد کے نام اس وقت یاد آرھے ھیں – جو یاد نہیں آرھے امید ھے میری کوتاھی معاف کردیں گے- اس تقریب میں میرے لیے سب سے بڑا اعزاز ڈاکٹرحنیف نیازی کے والد کا دیدار تھا – لائق بیٹے کی اس بہت بڑی کامیابی پر ان کی آنکھوں میں تشکر کے آنسودیکھنے والوں کی آنکھیں بھی بھیگنے لگیں – سب لوگ وھاں سے بہت سی خوبصورت یادوں کی جھولیاں بھر لائے –

آئیے مل کر دعا کریں کہ رب کریم ڈاکٹرحنیف نیازی کے اس کارخیر کو شاندار کامیابیاں عطا فرمائے- — رھے نام اللہ کا

–( پکچر —– ڈینٹل زون کا افتتاح )-بشکریہ-منورعلی ملک- 23 جون 2018

ایک اچھی خبر ———————————

آج کا دن میانوالی کے محبوب و محترم , منفرد انداز کے شاعر مرحوم محمد محمود احمد کی شاعری کے دوسرے اور آخری مجموعے کی ترتیب اور تدوین کے لیے وقف ھے-

محمد محمود احمد ھاشمی کا جو غیرمطبوعہ کلام ان کے گھر میں پڑا تھا،دوچاردن پہلے عصمت بیٹی (محمد محمود احمد کی بڑی بہن) نے میرے سپرد کرکے اسے کتاب کی شکل دینے اوراس کا تعارف لکھنے کی فرمائش کی – بٰٰیٹی کی اس فرمائش کو حکم سمجھ کر آج کا دن اس کام کے لیے وقف کردیا – دعا کریں کہ محمود بیٹے کی یہ امانت کتاب کی شکل میں ان کے بے شمار چاھنے والوں تک پہنچانا رب کریم میرے لیے آسان کردے —

بشکریہ-منورعلی ملک-24 جون 2018

محمد محمود احمد ھاشمی کی زیرترتیب کتاب کا ایک صفحہ ————

بشکریہ-منورعلی ملک- 24 جون 2018

عزیز دوستو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ —————-

کسی نے شکوہ تو نہیں کیا ، لیکن مجھے اپنی اس کوتاھی کا احساس بہر حال ھے کہ میں آپ کے کمنٹس کا جواب نہیں دیتا ، اس کی وجہ خدانخواستہ تکبر یا بے پرواھی نہیں بلکہ میری بعض مجبوریاں اور مصروفیات ھیں جن کی وجہ سے میں فیس بک پہ دس پندرہ منٹ سے زیادہ کام نہیں کر سکتا، کچھ صحت کے مسائل بھی رھتے ھیں –

پیغامات Messenger / Messages بھی کبھی کبھار دیکھ سکتا ھوں – زیادہ تر تو آج کل سیاسی پیغامات آرھے ھیں – مگر میں اپنی فیس بک کو سیاست سے پاک رکھنا چاھتا ھوں ، اس لیے دوستوں کے بھیجے ھوئے لنکس اور پکچرز اپنے پیج پہ لگانا مناسب نہیں سمجھتا – فیس بک تو نفسانفسی کے اس دور میں محبت اور تعاون کی روایات کو زندہ رکھنے کا وسیلہ ھونی چاھیے-حالات کی تپتی دوپہر میں فیس بک ایک ایسا شجر سایہ دار ھونی چاھیے، جس کے سائے میں آکر لوگوں کو ٹھنڈی ، خوشگوار اور پیار سے معطر ھوا میں سانس لینے کا احساس ھو-

نوٹیفیکیشنز (Notifications) بھی دن میں ایک آدھ بار ھی دیکھ سکتا ھوں ، کبھی دیکھنے کا موقع ھی نہیں ملتا ، دوستوں کی سالگرہ میں بھی حاضری نہیں لگوا سکتا – ان سب باتوں کا بڑی شدت سے احساس رھتا ھے- آپ یہ سوچ کر یہ کوتاھیاں معاف کر دیا کریں کہ میں آپ ھی کی خاطر روزانہ فیس بک پہ حاضری دیتا ھوں – آپ کی محبتیں میرا سرمایہ ھیں ۔ میں ان محبتوں اور دعاؤں سے کسی قیمت پر محروم نہیں ھونا چاھتا – اللہ آپ سب کو سلامت رکھے ، اور ھماری اس محفل کو آباد رکھے- آمین – ———— رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک- 25 جون 2018

میرامیانوالی / میرا داؤدخیل ———————–

اللہ اکبر —- !

باپ تو باپ ھوتا ھے نا —– !

ھمارے گھر کے ایک کمرے کے روشندان میں چڑیوں نے آشیانہ بنا رکھا ھے – کل صبح اس آشیانے میں سے ایک بچہ گر پڑا ، وہ اڑ نہیں سکتا تھا – کل سارا دن اس کا باپ سائے کی طرح اس کے ساتھ رھا – بچے کی ماں چڑیا شاید اس دنیا میں موجود نہیں ، مر گئی ھوگی ، ورنہ وہ کیسے اپنے لال کو تنہا چھوڑسکتی تھی – بہرحال بچے کا باپ کل سے ماں اور باپ دونوں کے فرائض ادا کر رھا ھے – کبھی وہ کھانے کی کوئی چیز لا کر اپنی چونچ سے اسے کھلاتا ھے – کبھی ویسے ھی اس کے پاس آکر بیٹھ جاتا ھے ، اسے یہ احساس دلانے کے لیے کہ ” میں ھوں ناں ”-

ھمارے بچے چڑیا کے اس بچے کو تمام سہولتیں فراھم کر رھے ھیں ، کل رات اس نے جوتوں کے ایک ڈبے میں نرم بستر پر گذاری – صبح وھاں سے نکل کر صحن میں آگیا- اس کا باپ اب بھی اس پر صدقے واری ھوتا پھر رھا ھے-

باپ کی اپنے بچے کے لیے یہ بے قراری دیکھ کر آنکھیں بھیگ جاتی ھیں – رب کریم نے کیا کیا رشتے بنا دئیے ھیں – اللہ ایسے تمام رشتوں کو سلامت رکھے- ———- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 26 جون 2018

میرا میانوالی / میرا داؤدخیل —————-

ایک کزن نے بتایا کہ مسلم شاہ بھی یہ دنیا چھوڑ کر عدم آباد جا بسے – اللہ ان کی مغفرت فرما کر انہیں اپنی رحمت کاسایہ عطافرمائے ، میرے بہت پیارے بھائی تھے –

مواز والا (موچھ) کے محمد مسلم شاہ ٹھٹھی سکول میں تقریبا دس سال میرے ھمسفر رھے – میں وھاں ھیڈماسٹر تھا ، یہ پی ٹی آئی – یاد رھے کہ سکولوں کے ڈرل ماسٹرز کو سرکاری کاغذات میں بھی اور عام بول چال میں بھی پی ٹی آئی کہا جاتا تھا – پی ٹی آئی ، فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹر ( Physical Training Instructor ) کی مخفف صورت ھؤا کرتی تھی-

محمد مسلم شاہ موازوالا کے معروف پیر گھرانے کے منفرد فرد تھے – پیرمحمدشاہ رحمتہ اللہ علیہ کے بھتیجے تھے- ایک دو بار ان کی دعوت پر مجھے بھی مواز والا میں حاضری کا اعزاز نصیب ھؤا – سجادہ نشین صآحبزادہ محمد مزمل شاہ نے بہت پیار سے استقبال کیا – مسلم شاہ کے حوالے سے بات ھوئی تو کہنے لگے ، ھم تو قبلہ پیر صاحب کے بیٹے ھیں ، مگر محمد مسلم شاہ ان کے محبوب تھے- بہت پیارتھا والد مکرم کو ان سے- ان کی ھر بات مانتے تھے- بظاھر تو یہ ایک سرکاری ملازم ھیں ، مگر ان کے سینے میں وہ کچھ ھے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ھوتا ھے- بابا جی کے فیضان نظر نے انہیں مالامال کر دیا-

بظاھر واقعی محمد مسلم شاہ نہایت سادہ اور ھم جیسے دنیادار لگتے تھے ، مگر میں نے ایک خاص بات ان میں یہ دیکھی کہ فارغ وقت میں سکول کے کسی کونے میں سر جھکا کر دیر تک کچھ سوچتے رھتے تھے- ایک آدھ دفعہ پوچھا تو ھنس کر کہنے لگے ” سر، ویسے ھی ، اکیلا بیٹھنا مجھے اچھا لگتا ھے”- صآحب اسرار انسان تھے – بہت زندہ دل بھی تھے – ماسٹر حاجی غلام رسول مرحوم سے ان کی چھیڑ چھاڑ بہت دلچسپ ھوتی تھی – بہت پیارے ساتھی تھے ھمارے – کبھی مواز والا جا کر ان کی لحد پہ حاضری دوں گا ، انشآءاللہ-رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 27 جون 2018

میرا میانوالی / میرا داؤدخیل ——————-

اکثر جانور اور پرندے تیز روشنی برداشت نہیں کر سکتے ، اس لیے بجلی کی آمد کے بعد بہت سی اقسام کے جانور اور پرندے ھمارے علاقے سے ھجرت کر کے خدا جانے کہاں جا بسے – قریبی پہاڑ سے آدھی رات کے بعد بگیاڑ ( بھیڑیئے ) اور گیدڑ آ کر شکار کی تلاش میں پھرتے رھتے تھے – گیدڑرات بھر بہت اونچے سروں میں چیختے رھتے تھے- بزرگ تو کہتے تھے گیدڑ بہت ڈرپوک ھوتے ھیں ، لیکن بچے بہرحال ان کی مسلسل چیخوں سے بہت ڈرتے تھے- بھیڑیا بہت خطرناک درندہ ھے- بھوکا بھیڑیا شیر اور چیتے سے بھی زیادہ خطرناک ھوتا ھے – شکار کے لیے بھیڑیا اکیلا نہیں نکلتا ،بلکہ تین چار بھیڑیوں کا غول ( ٹیم سمجھ لیں ) مل کر شکار کرتا ھے- وہ اس لیے کہ بھیڑ یا بکری کو اٹھا کر لے جانا ھوتا ھے – ھمارے ھمسایوں کی دوچار بھیڑ بکریاں ، بھیڑیوں کا لقمہ بنیں – شہر کے دوسرے حصوں سے بھی ایسی وارداتوں کی اطلاعات سننے میں آتی رھتی تھیں – بھیڑیوں کے غول کا کتے کچھ نہیں بگاڑ سکتے، بس دور کھڑے ھو کر بھونکتے رھتے ھیں – لیکن گھر کے مالکوں کے اٹھنے سے پہلے ھی بھیڑییئے اپنا کام دکھا جاتے تھے- اسلحہ اس دور میں بہت کم ھوتا تھا – اس لیے بھیڑیوں کا کام آسان تھا – بہت دھشت ھوتی تھی بھیڑیوں کی – لوگ رات کے پچھلے پہر گھر سے باھر نہیں نکلتے تھے ، کیونکہ بھوکے بھیڑیئے انسان کو بھی معاف نہیں کرتے – گیدڑ ویسے تو بے ضرر جانور ھے ، مگر کتے کی طرح گیدڑ جب پاگل ھو جائے تو انتہائی خطرناک ھوتا ھے- بجلی کی آمد کے بعد یہ جانور غائب ھوگئے تو ان کے قصے بھی ان کے ساتھ رخصت ھو گئے – — رھے نام اللہ کا – منورعلی ملک بشکریہ-منورعلی ملک- 28 جون 2018

میرا میانوالی / میرا داؤدخیل ————————–

بجلی کے آنے کا ایک فائدہ یہ ھؤا کہ بجلی کی تیز روشنی سے گھبرا کر سانپ اس علاقے سے غائب ھوگئے – خاصے زھریلے سانپ ھؤا کرتے تھے ھمارے علاقے میں ، مٹیالے رنگ کاڈیڑھ دوفٹ لمبا سانپ بہت عام تھا – بہت زھریلا سانپ تھا –

سانپ کے کاٹے کا علاج سپیرے کرتے تھے ، جنہیں ” ماندری ” کہتے تھے – وہ کوئی منتر پڑھ کردم بھی کرتے تھے ، اور جڑی بوٹیوں کے مرکبات سے علاج بھی – مریض کی جان بچ جاتی تھی- ماندری منتر پڑھ کر سانپ کو پکڑ بھی لیتے تھے – یہ خانہ بدوش لوگ ھوتے تھے- دیہات میں جگہ جگہ پھرتے رھتے تھے- گاؤں کے باھر جھگیوں میں رھتے تھے- وہ لوگ سانپ پالتے بھی تھے۔ اور ان سانپوں کی نمائش کر کے کچھ نہ کچھ کمابھی لیتے تھے- بین بجا کر سانپ کے جھومنے کا تماشا بھی دکھاتے تھے- بین کی بہت سریلی مست آواز ھوتی تھی- لوگ بھی جھومنے لگتے تھے- ان کی زندگی کے بارے میں کئی فلمیں بھی پاکستان اور انڈیا میں بنائی گئیں – ان فلموں کے گیتوں میں سب سے اھم ساز بین ھوتا تھا- یہ سب گیت آج تک مقبول ھیں – لتا جی کا گیت

تن ڈولے ، مرا من ڈولے ، مرے دل کا گیا قرار

زندہء جاوید گیت ھے –

بزرگ بتایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ھمارے محلے کے ایک کنوئنیں ( چاچا ھدایت اللہ خان نمبردارکے کنوئیں ) میں ایک نئی قسم کا سانپ نظر آیا ، یہ ڈیڑھ دو فٹ لمبا سیاہ رنگ کا سانپ تھا – ماندری کو بلایا گیا – اس نے کنوئیں میں جھانک کر سانپ کو دیکھا اور یہ کہہ کر پیچھے ھٹ گیا کہ،یہ میرے قابو میں نہیں آئے گا – کیونکہ یہ دم اور منتر وغیرہ کو نہیں مانتا – کالا نامی پائی خیل کا مصلی ھمارے علاقے میں سانپوں کا سب سے بڑا ماھر ھؤا کرتاتھا – اس کو بلایا گیا – اس نے سانپ کو دیکھا توھنس کر کہا ” اوئے یہ تو کیڑا ھے – میں ابھی پکڑ کر اس کا سر کچل دیتا ھوں ” – کالا ایک رسی کے ذریعے کنوئیں میں اترگیا – جونہی اس نے سانپ کی طرف ھاتھ بڑھایا ، سانپ نے اس کے انگوٹھے پر کاٹ لیا – کالا چیخا مجھے نکالو – باھر نکالا گیا تو کالا مرچکا تھا – شکرھے سانپ اب ھمارے علاقے میں نہیں پائے جاتے- ——— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 29 جون 2018

اپنا شعر —————– قلم ھے کاغذ ھے لیکن الفاظ ھیں مری دسترس سے باھر کہا تھا اس نے کہ میرے بارے میں بھی کبھی اک کتاب لکھنا

بشکریہ-منورعلی ملک- 29 جون 2018

 الحمدللہ ! – آج فیس بک نے بتایا کہ میری پوسٹس پر آپ کی لائیکس کی تعداد چارلاکھ اسی ھزارھو گئی – اللہ آپ سب کو سلامت رکھے-

بشکریہ-منورعلی ملک- 30 جون 2018

Your words for Mianwali and Mianwalians