MERA MIANWALI MAR 2018

میرا میانوالی-منورعلی ملک کی مارچ 2018 کی  فیس بک پر پوسٹس

میرا میانوالی———————————

وہ خط بھی بہت دلچسپ ھوتے تھے جو ھم بچپن میں اپنے دوستوں کو بھیجا کرتے تھے- خط یوں شروع ھوتا تھا –
میرے پیارے ———-
یہاں پر سب خیریت ھے – آپ کی خیریت نیک مطلوب چاھتا ھوں —-

اس سے آگے اسی قسم کی غلط سلط ااردو میں ادھر ادھر کی باتیں – کچھ ذکر سکول کا ، کچھ گھرکا احوال – نئے کپڑے یا جوتے اگر خریدے ھوتے تو ان کا ذکر- بے تکی باتیں – آخر میں کوئی ٹوٹا پھوٹا شعر- خط بار بار پڑھ کر لفافے میں بند کرنے کے بعد لفافے کے اوپر بھی بہت سی کارروائی ھوتی تھی- پتہ لکھ کر لفافے کی دوسری طرف چاند ، ستارے ، پھول ، کبوتر جو دیکھنے میں مرغی لگتا تھا – پھر یہ دو شعر بھی ھر بچہ ضرور لکھتا تھا –
چلا چل لفافہ کبوترکی چال
لے آ میرے بھائی کا جلدی جواب
اور
یاروں کو یار ملتے ھیں سیب و اناربن کر
ھم بھی کبھی ملیں گے پھولوں کے ھار بن کر

پھولوں کے ھار والی بات تو مناسب ھے، سیب و انار والی بات میں آج تک نہیں سمجھ سکا-

خط بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار شروع ھو جاتا – روزانہ ڈاکیا آتا تو پوچھتے “چاچا، میرا خط؟”
ھر روز کی پوچھ گچھ سے تنگ آکر ڈاکیا کہتا ” نہیں ھے تیرا خط – چل بھاگ جا “-

جب خط کا جواب آجاتا تو اسے بار بار پڑھنے کے بعد فورا جواب لکھ کر بھیج دیا جاتا —————-
گذر گیا وہ زمانہ ۔ وہ مشغلے بھی گئے

اب تو یہ حال ھے کہ کل کی پوسٹ پر کمنٹ میں کلیم شاہ صاحب نے بتایا کہ انہوں نے آخری خط 15 سال پہلے (2003 میں) جنوبی افریقہ سے بھیجا تھا ———– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 1 مارچ 2018-

یادیں ———————


مظہر نیازی کی شادی میں حاضری
دسمبر ———————- 2003

میرا میانوالی

میرامیانوالی —————————- 2

رب کریم نے لکھنے کا ھنر اور ابلاغ کا وسیلہ عطا کردیا تو کبھی کبھار ان دوستوں کے بارے میں بھی لکھنا اپنا فرض سجھتا ھوں ، جو اب اس دنیا مین موجود نہیں رھے-
آج ذکر ھے بھائی رب نواز خان کا – بھائی رب نوازخان داؤدخیل کے قبیلہ شکورخیل سے تعلق رکھتے تھے- دو بھائی تھے رب نواز خان اور محمد نواز خان – داؤدخیل شہر کے جنوب میں میاں رمدی صاحب کے قبرستان کے قریب ان کی کچھ آبائی زمین تھی- بارانی زمین سے سال بھر کا خرچ بھی نہیں نکلتا تھا – کوئی اور ذریعہء معاش بھی نہ تھا – ان دونوں باھمت بھائیوں نے زمین سے بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لیے اپنے ھاتھوں سے کنؤاں کھودا اور اللہ کا نام لے کر کاشتکاری شروع کردی- اللہ کے فضل سے دونوں بھائی اچھی خاصی خوشحال زندگی بسر کرنے لگے- بھائی محمد نوازخان ایک حادثے میں جاں بحق ھوگئے تو ان کے گھرانے کی ذمہ داری بھی رب نواز خان نے سنبھال لی -محمد نوازخان کے صاحبزادے عبدالغفار خان ڈاکٹر ھیں –
رب نواز خان نے گھر کے ساتھ چھوٹی سی کریانے کی دکان بھی بنا لی – خود تو کچھ عرصہ ھؤا اس دنیا سے چلے گئے – دکان ان کے بچے چلا رھے ھیں –
رب نوازخان جماعت اسلامی کے سرگرم کارکن بھی تھے- مگر ھر جماعت اور فرقے کے لوگوں میں مقبول تھے- بہت ملنسار اور خوش اخلاق انسان تھے- محلے کے لوگ آج بھی انہیں بڑی محبت سے یاد کرتے ھیں ——— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 4 مارچ 2018-



 

( پکچرز لاھو ر کے قبرستان میانی صاحب کی ھیں –  قبر مشہورزمانہ شاعر ناصرکاظمی کی ھے – لوح مزار پر لکھا ھؤا شعر بھی ناصر کاھے )

میرا میانوالی

ناصر کاظمی —————————–

ناصر کاظمی خود تو 2 مارچ 1972 کو یہ دنیا چھوڑ کر عدم آباد جابسے مگر ان کے قلم سے لکھے ھوئے لفظ آج بھی دلوں کی دھڑکنوں کو متاثر کرتے ھیں – نصرت فتح علی خان کی آواز میں ناصر کاظمی کی غزل
غم ھے یا خوشی ھے تو
میری زندگی ھے تو

اور ملکہءترنم نورجہاں کی آواز میں ———

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

اج بھی لوگ بڑے شوق سے سنتے ھی — ان کے علاوہ ناصر کے اور بھی بہت سے شعر زباں زد عام ھیں –
ناصرکاظمی 8 دسمبر 1925 کو انبالہ کے ایک سید گھرانے میں پیدا ھوئے- ابتدائی تعلیم انبالہ ھی میں حاصل کی – قیام پاکستان کے وقت پاکستان آکر لاھور میں آباد ھو گئے- بقیہ تعلیم اسلامیہ کالج لاھور میں مکمل کی – ریڈیو پاکستان لاھور سے وابستہ رھے- اس زمانے کے معروف ادبی رسالے 147ھمایوں147 کے چیف ایڈیٹر بھی رھے- مال روڈ لاھور پر پاک ٹی ھاؤس کی محفلوں کی جان تھے- نامور افسانہ نگار انتظار حسین ناصر کاظمی کے سب سے قریبی دوست تھے- راتوں کے پچھلے پہر یہ دونوں دوست مال روڈ کے کنارے چہل قدمی کیا کرتے تھے- ان راتوں کا ذکر انتظار حسین اپنے کالموں میں اکثر کیا کرتے تھے-

ناصر کو فطرت کے مناظرسے بے پناہ پیار تھا- ان کی شاعری میں چاندنی راتوں ، موسموں ، یادوں اور تنہائی کا ذکر جابجا ملتا ھے- ان عام سے لفظوں کو ناصر نے نئی زندگی دے دی –
سادہ الفاظ میں دل کو چھو لینے والی باتیں کہنا ناصر کی شاعری کا سب سے بڑا وصف تھا-
ناصر کے بارے میں کچھ باتیں انشاءاللہ آج پچھلے پہر ھوں گی – چلتے چلتے ناصر کا یہ شعر بھی دیکھ لیجیئے ——–
او پچھلی رت کے ساتھی
اب کے برس میں تنہا ھوں
—————————————— رھے نام اللہ کا

ناصر کاظمی —————————- 2
ناصر کاظمی کو کبوتر پالنے کا بہت شوق تھا – گھر میں بہت سے کبوتر پال رکھے تھے – ان کی بہت دیکھ بھال کرتے تھے- جب ناصر کا جنازہ گھر سے روانہ ھؤا تو تمام کبوتر پرواز کرتے ھوئے ، جنازے کے ھمراہ گئے – اور جب تدفین ھوگئی تو واپس چلے گئے – یہ کہنا غلط نہ ھوگا کہ پرندے اور جانور انسانوں سے زیادہ وفادار ھوتے ھیں ، کیونکہ ناصر کے کئی دوست

ان کا جنازہ اٹھتے ھی غائب ھو گئے – کچھ لوگ حاضر بھی نہ ھوئےناصر کاظمی کے صاحبزادے باصرسلطان کاظمی انگلش کے پروفیسر ھیں – وہ انگلینڈ کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسرھیں – اردو ، انگلش ، دونوں زبانوں میں شاعرئ کرتے ھیں – وہ بھی بہت معروف شاعر ھیں – ان کی شاعر ی کے مجموعے بھی شائع ھوچکےھیں ——– رھے نام اللہ کا —————

(ناصر کاظمی کی ایک یادگار غزل )

بشکریہ-منورعلی ملک- 6 مارچ 2018-

میرا میانوالی

میرامیانوالی / میرا لاھور ————————-

کل ناصر کاظمی کے حوالے سے گفتگو میں ”پاک ٹی ھاؤس” کا نام آیا تھا – پاک ٹی ھاؤس لاھور کی سب سے اھم ادبی بیٹھک ھے – یہ بیٹھک بعد دوپہر آباد ھوتی ھے، اور رات گئے تک کھلی رھتی ھے-
کنگ ایڈورڈز میڈیکل کالج کے سامنے نیلا گنبد چوک سے مال روڈ پر آئیں تو بائیں جانب پاک ٹی ھاؤس آتا ھے –


1932 میں ایک سکھ فیملی نے یہ چائے خانہ قائم کیا تھا – 1940 میں اس کا انتظام ینگ مینز کرسچیئن ایسوسی ایشن YMCA نے سنبھال لیا – تب سے یہاں شاعروں، ادیبوں کا آنا جانا شروع ھؤا – ادب کی ترقی پسند تنظیم نے یہیں جنم لیا – 1947 میں سراج الدین احمد نامی ادب دوست شخصیت نے پاک ٹی ھاؤس کا نظام سنبھالا- فیض احمد فیض ، احمد ندیم قاسمی ، سعادت حسن منٹو ، ناصر کاظمی ، انتظارحسین ، ابن انشآء ، ساحرلدھیانوی، سجاد باقر رضوی ، شورش کاشمیری، منیر نیازی ، سید قاسم محمود اور استاد امانت علی خان جیسی بلند پایہ شخصیات اس بیٹھک کی زینت ھؤا کرتی تھیں – ان کے اس دنیا سے جانے کے بعد ان کے شاگرد اور جانشیں یہاں آنے لگے-
پاک ٹی ھاؤس کے مالک سراج الدین احمد کی وفات کے بعد پاک ٹی ھاؤس ان کے صاحبزادے زاھد کے حصے میں آیا – مالی مشکلات سے تنگ آکر زاھد نے پاک ٹی ھاؤس بند کر کے یہاں ٹائروں کی دکان بنا لی – شاعروں ادیبوں نے احتجاج تو بہت کیا مگر مؤثر ثابت نہ ھؤا –
13 سال بعد 2013 میں حکومت پنجاب نے پاک ٹی ھاؤس اپنی تحویل میں لے کر ٹھیکے پر دے دیا – یوں یہاں کے اھل قلم کی یہ بیٹھک دوبارہ آباد ھو گئی – 2013 میں وزیراعظم نے اس کا افتتاح کر کے شاعروں ادیبوں کو ان کا یہ ٹھکانہ واپس دلا دیا – اب ھر شام وھاں بڑی رونقیں ھوتی ھیں ———— رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک- 7 مارچ 2018-

میرا میانوالی

میرامیانوالی ——————-

بہت دکھ ھؤا دو دن پہلے ایک بچے کا پیغام پڑھ کر – بچے نے لکھا :

”سر میرا نام محمدصدیق خان ھے- میں داؤدخیل کے محلہ امیرے خیل کا رھنے والا ھوں – میں حمیداللہ خان ، سابق چیئرمین ماڑی انڈس یونین کونسل کا سب سے چھوٹا بیٹا ھوں – میں اس وقت سعودی عرب میں رھتا ھوں – میرے ابو 6 جنوری کو فوت ھوگئے – چھٹی نہ مل سکنے کی وجہ سے میں ان کی میت کی زیارت بھی نہ کر سکا – سر، اگر آپ میرے ابو کو جانتے ھوں تو پلیز ان کے بارے میں کچھ لکھ دیں – شاید اس طرح میرا دکھ کچھ کم ھو جائے – سر ، میرے داداجی کا نام احمد خان تھا ، اور میرے نانا جانی کا نام دوست علی خان -”

حمیداللہ خان کا نام ھی کافی تھا – میں سارے خاندان کو جانتا ھوں ، حمیداللہ خان داؤدخیل سکول میں میرے بہت پیارے سٹوڈنٹ تھے- ایک عجیب سی معصومیت تھی حمیداللہ خان کی شخصیت میں – لائق بھی بہت تھے-
حمید اللہ خان کے والد احمد خان ماڑی انڈس ریلوے سٹیشن پر انجن ڈرائیور تھے- میٹرک کے بعد حمیداللہ خان تعلیم جاری نہ رکھ سکے توماڑی انڈس میں کپڑے کی دکان بنا لی – اچھا خاصا کاروبار تھا – علاقے کی بارسوخ شخصیت شمار ھوتے تھے- خدمت خلق کی خاطر مقامی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تو بھاری اکثریت سے یونین کونسل کے چیئرمین منتخب ھو گئے –
حمید اللہ خان نے سیاست مال بنانے کے لیے نہیں ، بلکہ لوگوں کی خدمت کے لیے شروع کی – مال تو جو ھاتھ میں تھا ، وہ بھی جاتا رھا – کاروبارختم ھوگیا – خوددار انسان تھے – اپنے بچوں پر بوجھ بننے کی بجائے گلن خیل میں اینٹوں کے بھٹے پر منشی کاکام کرتے رھے-

ماڑی انڈس سے داؤدخیل منتقل ھو گئے – صحت اتنی گر گئی کہ مزید کام نہیں کر سکتے تھے- حالت بہت بگڑ گئی تو ان کے ایک بیٹے نے سی ایم ایچ کوھاٹ میں داخل کرا دیا – بہت دن وھاں رھے- پھر گھر کی یاد ستانے لگی تو ضد کر کے واپس آگئے – جنوری کے شروع میں حالت پھر خراب ھو ئی تو ان کے بچوں نے انہیں ڈسٹرکٹ ھیڈکوارٹر ھسپتال میا نوالی میں داخل کروا دیا – مگر قدرت نے ان کی واپسی کا وقت مقرر کر دیا تھا – 6 جنوری کو لبیک کہہ کر اللہ کے حضور میں حاضر ھوگئے – اللہ انہیں اپنی رحمت کا سایہ نصیب فرمائے، بہت اچھے انسان تھے –
جب حمیداللہ خان اس دنیا سے رخصت ھوئے تو ان کے دوبیٹے سعودی عرب میں ملازمت کر رھے تھے ، ایک بیٹی عمرے کے لیے گئی ھوئی تھیں – بیماری کے دوران ان کے دامادپریس رپورٹرذوالفقارخان ، پو تے اور نواسے دن رات ان کی خدمت میں مصروف رھے – حمیداللہ خان سب بچوں سے بہت راضی ھو کر رخصت ھوئے ———————- رھے نام اللہ کا ————— منورعلی ملک —–


پکچرز ———— بائیں ، حمیداللہ خان — دائیں ، محمد صدیق خان

بشکریہ-منورعلی ملک- 11 مارچ 2018-

 

میرا میانوالی

میرامیانوالی ————————————–

ٹیکنالوجی کی ترقی نے آپ سے رابطہ مشکل بنا دیا ھے- میں تین سال سے پی ٹی سی ایل کا Evo 3G استعمال کررھا تھا کہ اچانک پی ٹی سی ایل والوں نے بتایا میانوالی میں چارجی 4G سروس شروع کر دی گئی ھے – اس لیے اب 3G کی بجائے انٹرنیٹ کنکشن کے لیے Evo 4G لینا پڑے گا – میں نے وہ لے لیا – دو دن تو وہ ٹھیک کام کرتا رھا – کل سے وہ کمپیوٹر کے ساتھ کنیکٹ connect ھو جاتا ھے ، مگر انٹرنیٹ سے connect نہیں ھوتا – پی ٹی سی ایل کے ایک صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا ” سر، دراصل میانوالی میں جو ھمارا کھمبا (Booster) لگا ھؤا ھے ، وہ فی الحال شہر کے کچھ حصوں کو cover کرتا ھے – آپ کا گھر شہر کے ان حصوں میں واقع نہیں – اس لیے فی الحال صبر ھی کرنا ھوگا – ھم نے اوپر والوں سے Booster کو Upgrade کرنے کا کہا ھؤا ھے ” –
امجد بیٹے کے پاس ٹیلی نار کا 4G ھے – دودن سے اس کے ساتھ کام چلا رھا ھوں – پی ٹی سی ایل کے اوپر والوں کو تو میں نہیں جانتا – کائنات کے اوپر والے سے گذارش ھے کہ یہ مسئلہ جلد حل کرادیں —- رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک- 17 مارچ 2018-

میرا میانوالی

میرامیانوالی ———————————

میرے قلم پر ان دوستوں کا بھی بہت حق ھے ، جو اب اس دنیا میں موجود نہیں – آپ کے لیے وہ اجنبی ھوں گے ، مگر ان کو جاننے اور چاھنے والے بہت سے لوگ ان کا ذکر پڑھ کر خوش ھوں گے- اس لیے بھی یہ یادیں شیئر کرنا پسند کرتا ھوں – جو لوگ انہیں نہیں جانتے وہ بھی میری ان تحریروں سے دوستی اور محبت نبھانے کا ھنر سیکھ سکتے ھیں –
آج ذکر ھے اپنے محترم دوست ، مین بازار میانوالی کی معروف شخصیت ، مرحوم حاجی محمد رمضان پنساری کا – آج سے تقریبا 35 سال پہلے حاجی صاحب کی بچیاں میری بی اے کی سٹوڈنٹ ھوئیں تو حاجی صآحب نے اس تعلق کو مستقل بھائی چارے کا روپ دے دیا – بہت محبت کرتے تھے مجھ سے- میں جب کبھی مین بازار سے گذرتا ، کچھ دیر ان کی دکان پہ ضرور رکتا – چائے چلتی ، اور پھر حاجی صاحب مجھے اپنی زندگی کے دلچسپ واقعات و تجربات سنایا کرتے تھے-
مرحوم حاجی محمد رمضان قیام پاکستان کے وقت اپنے خاندان کے ساتھ دلی سے ھجرت کرکے میانوالی میں آباد ھوگئے- ان کے گھر کا ماحول ، زبان ، کھانا پینا دلی والا ھی رھا – یوں سمجھیں انہوں نے میانوالی میں چھوٹا سا دلی آباد کر رکھا تھا-

رمضان ااینڈ سنز کے نام سے ان کا دیسی دوائیوں اور جڑی بوٹیوں کا کاروبار تھا- اللہ نے کاروبار میں برکت عطا کردی تو انگریزی دوائیوں کی ایک دو بین الاقوامی ( ملٹی نیشنل ) کمپنیوں کے ڈسٹری بیوٹڑ بھی بن گئے – ان کے صاحبزادے ھاشم ان کا ھاتھ بٹاتے تھے- دوسرے صاحبزادے محسن کا الگ میڈیکل سٹور تھا –

حاجی صاحب اکثر میرے لیے کوئی نہ کوئی گفٹ لایا یا بھجوایا کرتے تھے- خاص طور پر گھر میں کھانے کی جو اچھی چیز بنتی وہ مجھے ضرور بھجوایا کرتے تھے- حلیم تو تقریبا ھر ھفتے بھیجتے تھے-
ایک دفعہ شربت انارکی دو بوتلیں لے آئے – کہنے لگے ”ملک صاحب ، یہ بازاری شربت انار نہیں ، میں نے اپنے لیے بنایا تھا تو اس میں سے یہ آپ کا حصہ ھے- اس شربت کا نسخہ میں نے دلی کے ایک حکیم صاحب سے سیکھا تھا ” –

لوگ چلے جاتے ھیں ، مگر کچھ لوگ بہت اچھی روایات اور یادیں چھوڑ جاتے ھیں – ایسے لوگ ھمیشہ یاد رھتے ھیں –
حاجی صاحب اب اس دنیا میں نہیں ، مگر اب بھی میں مین بازار سے گزرتا ھوں تو ان کی دکان پر ھاشم بھائی سے مل کر ان کی یادوں کو تازہ کر لیتا ھوں ————————————- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 18 مارچ 2018-

میرا میانوالی

 ——————————

میرے داؤدخیل کی مٹی کا ایک خوبصورت شاھکار


میرا بہت پیارا بیٹا ، عطا محمد نیازی داؤدخیلوی-19 مارچ 2018

میرا میانوالی

میرامیانوالی ———————————

اس موسم کی بارش سے کاشتکار خوش نہیں ھوتے تھے – گندم کی پکی ھوئی فصل کے لیے بارش نقصان دہ ھوتی ھے، کہ اس سے دانہ Fungus کی بیماری کا شکار ھوکر کالا ھو جاتا ھے- ھم اس بیماری کو ”الی” کہتے تھے- اگر فصل ابھی سبز ھوتو بارش فائدہ مند ثابت ھوتی ھے- کہتے ھیں بارش سے دانہ موٹا ھوتا ھے-

چنے کی فصل کے لیے بادل کی گرج چمک تباہ کن ھوتی ھے- خدا جانے ایسا کیوں ھوتا ھے — کسی سے پوچھنا پڑے گا کہ بادل کی گرج چمک کا چنے پر یہ اثر کیوں ھوتا ھے-
بارش سے بیریوں کا بور گر جاتا ھے – اسی بور سے تو درخت پر بیر بنتے ھیں ، لہذا بیروں کے لیے بھی بارش نقصان دہ ھوتی ھے-
کسانوں کی اپنی سائنس ھوتی ھے- اور اس کے حساب سے ان کے اندازے بڑی حد تک درست ثابت ھوتے ھیں – مثلا کہا جاتا تھا کہ چچالی والا بادل ضرور برستا ھے – چچالی داؤدخیل کے شمال مغرب میں کوٹ چاندنہ کے قریب ایک پہاڑی نالہ ھے- یہ بہت منہ زور نالہ ھے – جب چچالی پہاڑ پر بارش ھوتی ھے تو اس نالے کا بہاؤ اتنا تیز ھوتا ھے کہ اس میں آدمی گر جائے تو اٹھ نہیں سکتا –

چچالی والا بادل ھم نے کئی دفعہ برستے دیکھا – ادھر ادھر سے آنے والے بادل تو کبھی برستے ھیں ، کبھی نہیں ، مگر چچالی والا بادل ضرور برستا تھا – اسی لیے کہتے تھے ” چچالی ، نہ ویسی خالی “

شمال مغرب میں چچالی پہاڑ سے اٹھنے والا کالا سیاہ بادل بہت زور کی بارش برسایا کرتا تھا – عیسی خیل کے مرحوم یونس خان نے اپنے مشہور زمانہ گیت میں اسی بادل کو مخاطب کر کے کہا تھا —-
کالاشاہ بدلا ناں وس توں ساڈے دیس
کیوں جے اجے تک ماھی راھندا اے پردیس
—– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 20 مارچ 2018-

میرا میانوالی

میرامیانوالی ———————————

گئے زمانے کے لوگ تعلیم یافتہ تو نہ تھے ، مگر پرسکون اور صحتمند زندگی بسر کرنے کا ھنر جانتے تھے- ان کے اپنے اصول تھے ، جونسل در نسل صدیوں سے چلتے آرھےتھے –

صحت برقرار رکھنے کا ایک اصول یہ تھا کہ اس موسم میں پیٹ کو ایک بار بالکل صاف ، یوں سمجھیئے کہ Wash-out کردیا جاتا تھا – اس کام کے لیے سونف کے عرق میں کیسٹر آئیل ( ھرنولی کا تیل ) ملا کر صبح سویرے پی لیا جاتا تھا – ایک آدھ گھنٹے میں واش روم کے دو چار پھیرے لگنے کے بعد معدہ بالکل صاف ھو جاتا تھا – اس کے بعد دودن تک صرف دال چاول کی کھچڑی یا گندم کے بھونے ھوئے دانوں کے دلیے پر گذارہ کرنا پڑتا تھا – یوں معدہ اگلے 6 ماہ کے لیے ھر قسم کی خوراک کے لیے تیار ھو جاتا تھا –

یہ عمل اکتوبر نومبر میں پھر دھرایا جاتا تھا – اور اگلے چار پانچ ماہ خیریت سے گذر جاتے تھے- کہا کرتے تھے کہ نہا دھوکر ھم جسم کو باھر سے تو صاف ستھرا بنا لیتے ھیں ، سال میں کم ازکم دو دفعہ (بدلتے موسم میں) جسم کے اندر کی صفائی بھی ضرو ر کر لینی چاھیئے- کیونکہ اکثر بیماریاں پیٹ کی خرابیوں سے جنم لیتی ھیں-

ان پڑھ لوگوں کا یہ اصول بہت کارآمد اور سو فی صد کامیاب تھا – لوگ صحتمند اور توانا زندگی بسر کرتے تھے- سال بھر میں ایک آدھ دفعہ ملیریا کے سوا اور کوئی بیماری ان کے نزدیک بھی نہیں آتی تھی——- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 21 مارچ 2018-

میرا میانوالی

اپنے 5787 فالوورز کے نام ———————————

عزیز ساتھیو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ –
بہت ممنون ھوں آپ سب کا ، کہ آپ میری پوسٹس میں دلچسپی کی بنا پر میرے ھمسفر بن گئے – فرینڈز کے کھاتے میں گنجائش نہ ھونے کے باوجود آپ نے میرا ھمسفر بننا ضروری سمجھا – اپ کا احسان ھے کہ آپ میرے کارواں میں شامل ھوگئے – یہ ایسے ھی ھے جیسے ٹرین کے اندر جگہ نہ ملی تو لوگ ٹرین کی چھت پہ بیٹھ کر سفر پورا کرلیتے ھیں – ایسے کام شوق اور جذبہ ھی کرواتا ھے –

یقین کیجیے میری نظر میں آپ اور فرینڈز کے کھاتے والے لوگ بالکل برابر ھیں – میرے قلم پر آپ سب کا حق یکساں ھے – اپنی پوسٹس میں ھمیشہ ایسی باتیں لکھتا ھوں جن سے آپ کے علم میں بھی اضافہ ھو اور اچھی روایات پر عمل کی ترغیب بھی ملے – اس خدمت کے صلے میں اپ سے صرف دعا چاھتا ھوں – میرا دنیا اور آخرت کا زاد سفر دعائیں ھی رھیں –

آپ کی تعداد حیرت انگیز تیزی سے بڑھ رھی ھے – پانچ سات کا اضافہ روزانہ ھو جاتا ھے – آپ سے بعد میں آنے والے سب ساتھیوں کے لیے بھی یہی پیغام –
———— آپ سب کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 23 مارچ 2018-

میرا میانوالی

وقاراحمد ملک کے ناول ‘ رات ، ریل اور ریستوراں ‘ کی افتتاحی تقریب
جناح ھال ، میانوالی — 30 مارچ 2018


محمد افضل عاجز ، پروفیسر غلام سرورخان نیازی اور وقار احمد ملک کے ھمراہ
( پکچر ، بشکریہ افضل بلوچ صاحب )-بشکریہ-منورعلی ملک- 30 مارچ 2018-

میرا میانوالی —————– 2

کل وقاراحمد ملک کے ناول “ رات ، ریل اور ریستوراں “ کی تعارفی تقریب میں شرکت ایک بہت خوشگوار تجربہ تھا- بہت عرصہ سے میانوالی کی ادبی تقریبات میں شمولیت نہ کر سکا – ساتھیوں کی مہربانی سے دعوت تو ھر تقریب میں شرکت کی ملتی رھتی ھے، مگر یاتومیں میانوالی سے باھر ھوتا ھوں ، یا کچھ ذاتی مصروفیات آڑے آ جاتی ھیں –


کل کی تقریب کی صدارت میرے محترم بھائی پروفیسرغلام سرورخان نیازی نے کی ، مہمان خصوصی مقبول سیاسی رھنما امجدعلی خان ایم این اے تھے ۔ اور مہمان اعزازمعروف و مقبول شاعر، صحافی اور اداکار محمد افضل عاجز-

بہت سے دیرینہ آشنا چہرے زینت محفل تھے- اھل قلم میں سے عصمت گل خٹک ، ڈاکٹرحنیف نیازی، عمران حفیظ ، شاکر خان ، محمد ظہیراحمد, نسیم بخاری، نذیر درویش ، سعید ملک ، رانا امجد اقبال ، نورتری خیلوی، نجف بلوچ ، افضل بلوچ، ضیاءاللہ قریشی — اس وقت یہی نام یاد آرھے ھیں، جو رہ گئے دل میں تو موجود ھیں ، ذھن میں نہ لا سکنے پر معذرت، تقریب کی نظامت کے فرائض محمد مظہر نیازی نے ادا کیئے –

آشنا چہروں کے علاوہ بہت سے بچے اور نوجوان ایسے بھی تھے، جن سے پہلے ملاقات نہیں ھوئی تھی ، مگر وہ کسی نہ کسی حوالے سے مجھ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ تقریب ختم ھوتے ھی میرے ساتھ سیلفیؤں کا سلسلہ کافی دیر تک چلتا رھا- کچھ ایسے بھی تھے، جو اپناتعارف بھی نہ کرا سکے، لیکن میرے ساتھ پکچرز بنواتے رھے – یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کبھی مجھ سے کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں کیا ، اللہ آپ سب کو بے حساب عزت اور نعمتیں عطا فرمائے –
اللہ میرے میانوالی کو آباد رکھے یہ بے لوث محبتیں ھی یہاں کی پہچان ھیں –
نجف بلوچ اور شفیع اللہ خان سائے کی طرح میرے ساتھ رھے- ان کا بھی بہت ممنون ھوں- فیس بک کے دیرینہ ساتھی مہربان اباخیل سے پہلی ملاقات بھی یاد رھے گی-
—— رھے نام اللہ کا ——- منورعلی ملک —–

میرا میانوالی

میرامیانوالی ———————-

کسان ڈھیریاں اٹھا کر لے جاتے تو کھلواڑوں (کھلیانوں) پر پرندے اپنے حصے کا رزق لینے کے لیے آجاتے- اللہ رازق ھے- کچھ نہ کچھ بچے کھچے دانے ھر کھلواڑے پر مل ھی جاتے – کچھ نیک دل کسان تو خود ھی گندم اٹھاتے وقت پرندوں کے لیے جھولی بھر دانے بکھیر دیتے تھے-

تقریبا ھر قسم کے پرندے کھلواڑوں پر چرتے چگتے دکھائی دیتے تھے- پیچیاں، بلبلیں ، پدو، چنڈور، لاٹے، سویڑیں ، کبھی کبھی پھرتے نظرآتے- زیادہ تر فاختائیں ، تلیئر اور کبوتر کھلواڑوں پہ راج کیا کرتے تھے- تلیئر ذرا شرمیلا سا پرندہ ھے – عام طور پر دوسرے پرندوں کی موجودگی میں کھلواڑوں پر اترنے سے گریز کرتا ھے- کھلواڑہ خالی پڑا ھو تو بڑی تعداد میں تلیئروں کے جھار وھاں آکر اپنا حصہ وصول کرتے ھیں-

عام لوگ تو ان پرندوں کو نہیں چھیڑتے، البتہ شکار کے شوقین منچلے نوجوان بندوق سے فاختائیں ، تلیئر اور کبوتر شکار کرتے رھتے تھے- اپنے زمانے میں ھم بھی ان منچلوں میں شامل رھے- اگر کوئی روکتا تو کہا کرتے تھے ‘ بھائی صاحب ، اللہ نے ان چیزوں کو حلال یونہی تو نہیں کر دیا- یہ ھمارا رزق ھیں – اس لیے ان کا شکار بالکل جائز ھے ‘-

کبوتر بہت زیادہ ھوشیار ھوتا ھے- شکاریوں کو دور سے آتے دیکھ کر اڑجاتا ھے- اس لیئے زمین پر بیٹھے کبوتروں کا شکار خاصا مشکل ھوتا ھے- عام طور پر اڑتے کبوتروں کو نشانہ بنایا جاتا تھا-

 

جب سے بجلی آئی ھے ، بہت سی قسموں کے پرندے ھمارے علاقے سے ھجرت کرکے کہیں اور چلے گئے ھیں، کیونکہ وہ بجلی کی تیز روشنی برداشت نہیں کرسکتے— ترقی کی اھمیت اپنی جگہ مگر ھم بہت سے خوبصورت دوست پرندوں سے محروم ھو گئے – یہ پرندے تو ھمارے علاقے کا حسن تھے-
————————————- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 31مارچ 2018-

میرا میانوالی

میرامیانوالی ———————-میرا میانوالی —————– 2

کل وقاراحمد ملک کے ناول “ رات ، ریل اور ریستوراں “ کی تعارفی تقریب میں شرکت ایک بہت خوشگوار تجربہ تھا- بہت عرصہ سے میانوالی کی ادبی تقریبات میں شمولیت نہ کر سکا – ساتھیوں کی مہربانی سے دعوت تو ھر تقریب میں شرکت کی ملتی رھتی ھے، مگر یاتومیں میانوالی سے باھر ھوتا ھوں ، یا کچھ ذاتی مصروفیات آڑے آ جاتی ھیں –
کل کی تقریب کی صدارت میرے محترم بھائی پروفیسرغلام سرورخان نیازی نے کی ، مہمان خصوصی مقبول سیاسی رھنما امجدعلی خان ایم این اے تھے ۔ اور مہمان اعزازمعروف و مقبول شاعر، صحافی اور اداکار محمد افضل عاجز-

بہت سے دیرینہ آشنا چہرے زینت محفل تھے- اھل قلم میں سے عصمت گل خٹک ، ڈاکٹرحنیف نیازی، عمران حفیظ ، شاکر خان ، محمد ظہیراحمد, نسیم بخاری، نذیر درویش ، سعید ملک ، رانا امجد اقبال ، نورتری خیلوی، نجف بلوچ ، افضل بلوچ، ضیاءاللہ قریشی — اس وقت یہی نام یاد آرھے ھیں، جو رہ گئے دل میں تو موجود ھیں ، ذھن میں نہ لا سکنے پر معذرت، تقریب کی نظامت کے فرائض محمد مظہر نیازی نے ادا کیئے –

آشنا چہروں کے علاوہ بہت سے بچے اور نوجوان ایسے بھی تھے، جن سے پہلے ملاقات نہیں ھوئی تھی ، مگر وہ کسی نہ کسی حوالے سے مجھ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ تقریب ختم ھوتے ھی میرے ساتھ سیلفیؤں کا سلسلہ کافی دیر تک چلتا رھا- کچھ ایسے بھی تھے، جو اپناتعارف بھی نہ کرا سکے، لیکن میرے ساتھ پکچرز بنواتے رھے – یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کبھی مجھ سے کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں کیا ، اللہ آپ سب کو بے حساب عزت اور نعمتیں عطا فرمائے –
اللہ میرے میانوالی کو آباد رکھے یہ بے لوث محبتیں ھی یہاں کی پہچان ھیں –

نجف بلوچ اور شفیع اللہ خان سائے کی طرح میرے ساتھ رھے- ان کا بھی بہت ممنون ھوں- فیس بک کے دیرینہ ساتھی مہربان اباخیل سے پہلی ملاقات بھی یاد رھے گی-
—رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 31مارچ 2018-

Your words for Mianwali and Mianwalians