اجڑتی بستی نورنگا
منور علی ملک
دریا نے رخ بدلا تو اک گاؤں اجڑا
مل نہ سکے پھر دو ہمسائے، اس سے کہنا
میرا یہ شعر بہت ہِٹ ہوا — آپ حیران ہوں تو آپ کی مرضی۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے یہ شعر اپنی زندگی کے کسی واقعے کے بارے میں نہیں، دریا کے ہاتھوں بار بار اجڑتی بستی نورنگا (نورنگہ) کے حوالے سے لکھا تھا۔
میں نورنگہ کبھی نہیں گیا۔ اپنے محترم دوست سید عطا محمد شاہ صاحب (ہیڈماسٹر) اور پروفیسر سید گلزار بخاری سے نورنگہ کی بار بار بربادی کے دلگداز قصے سن کر ذہن میں ایک تصور سا بن گیا تھا۔ کیا عجیب بستی ہے کہ دریا اچانک اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
بار بار کے تجربے کے باعث لوگ دریا کا چلن سمجھنے لگے ہیں۔ سیلاب کی آمد سے پہلے ہی وہ جان و مال میں سے جو کچھ بچا سکتے ہیں، لے کر دریا کی زد سے دور منتقل ہو جاتے ہیں۔
گاؤں کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ صرف کچھ پرندے اپنے اجڑے آشیانوں کی یاد میں دریا پر منڈلاتے نظر آتے ہیں۔
نورنگہ بخاری سادات کی بستی ہے۔ یہ بستی سادات کی ان بستیوں میں سے ہے جن کا سلسلہ دریائے سندھ کے کنارے بلوٹ، ضلع ڈی آئی خان، سے کشمیر تک پھیلا ہوا ہے۔
علم و ادب کے حوالے سے یہ چھوٹی سی بستی غیر معمولی طور پر زرخیز ہے۔ ادب کی بہت سی قد آور شخصیات کا مولد و مسکن نورنگہ ہے۔
پروفیسر سید گلزار بخاری، علی اعظم بخاری، مرحوم طاہر بخاری اور فیروز نقوی — چار بھائی، چاروں بہت اچھے شاعر۔
ریڈیو پاکستان کے سابق اسٹیشن ڈائریکٹر ستار سید، ریلوے کے بڑے افسر حسنین بخاری، اور پروفیسر خاور نقوی بھی اپنے اپنے منفرد انداز کے بہت اچھے شاعر ہیں۔
ادب کی ان بلند مرتبہ شخصیات کی تعلیم و تربیت صاحبِ نظر، درویش صفت ماہرِ تعلیم سید عطا محمد شاہ المعروف ہیڈماسٹر صاحب کی پُرخلوص محنت کا ثمر ہے۔
نورنگہ اجڑتا بستا رہے گا، مگر نورنگہ کا نام ضلع میانوالی میں علم و ادب کی تاریخ کے ایک زریں باب کا عنوان ہے اور رہے گا۔
MOHAMMAD IMRAN SYED
NAURANGA -MY VILLAGE MY SWEET HEART
SYED TASAWWUR HUSSAIN SHAH – CHIEF MANAGER-STATE BANK OF PAKISTAN
PROFESSOR GULZAR BUKHARI
Dedicated to the Custodians of Nauranga
This page is dedicated with gratitude to the individuals whose knowledge, documentation, research, preservation and continuous advocacy have helped keep the history and cultural memory of Nauranga accessible to a wider audience.
Syed Muhammad Aqeel Hussain Shah
We acknowledge Syed Muhammad Aqeel Hussain Shah as a principal contributor of data, material and local knowledge concerning Nauranga and its notable personalities and legends. His contributions have provided valuable source material for documenting and presenting the heritage of Nauranga.
Mustaid Raza Naqvi
Mustaid Raza Naqvi has been consistently involved in the documentation, search, projection and promotion of Nauranga and its people. His efforts include the creation and maintenance of social-media pages, a dedicated website and a YouTube presence focused on Nauranga and its heritage.
The mianwali.org team is deeply thankful to both contributors for sharing valuable data, memories, references and material that help preserve the history, people and cultural identity of Nauranga for future generations.

Dear Sir/Dear Brother
I am extremely grateful to you for your kind consideration about our beloved Village Nauranga. Your efforts for the service of Mianwali are highly appreciated. Stay blessed always.
Regards
Aqeel shah